شاعری ہب / غزل / یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا

یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا

Ya Mujhe Afsar-e-Shahana Banaya Hota Ghazal Bahadur Shah Zafar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا

یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے

کیوں نہ ہر بات میں فرزانہ بنایا ہوتا

دلِ بے تاب کو تسکین کہاں سے آئے

کاش مقتل میں ٹھکانا بنایا ہوتا

ظفرؔ اس خاک کے پردے میں چھپا ہے اک درد

کاش یہ دل ہی نہ ویرانہ بنایا ہوتا

Ya Mujhe Afsar-e-Shahana Banaya Hota

Ya Mera Taaj Gadayana Banaya Hota

Apna Deewana Banaya Mujhe Hota Tu Ne

Kyun Na Har Baat Mein Farzana Banaya Hota

غزل
Comment
بہادر شاہ ظفر
تعارفِ شاعر

بہادر شاہ ظفر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 24 اکتوبر 1775 — 7 نومبر 1862 📍

ابو الظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (24 اکتوبر 1775ء – 7 نومبر 1862ء) مغلیہ سلطنت کے بیسویں اور آخری تاجدار، تحریکِ آزادی 1857ء کے قائد اور اردو کلاسیکی ادب کے انتہائی صاحبِ طرز،...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے