شاعری ہب / غزل / پھول پتے بھی روئے مرے حال پر ظفر

پھول پتے بھی روئے مرے حال پر ظفر

Phool Patte bhi Roye Maray Haal par Zafar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

پھول پتے بھی روئے مرے حال پر ظفرؔ

وہ تو ظالم تھا جو مسکرا کے گزر گیا

ہم نے تو مانگی تھی پناہ اس کے در سے سدا

پر وہ بیگانہ بن کے بیگانے نگر گیا

اب اس دشت میں کیا تلاش کریں گے ہم

جب چراغِ آرزو ہی دل کا بجھ گیا

Phool Patte Bhi Roye Mere Haal Par Zafar

Woh To Zaalim Tha Jo Muskura Ke Guzar Gaya

Hum Ne To Maangi Thi Panah Us Ke Dar Se Sada

Par Woh Be-Gaana Ban Ke Be-Gaane Nagar Gaya

غزل
Comment
بہادر شاہ ظفر
تعارفِ شاعر

بہادر شاہ ظفر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 24 اکتوبر 1775 — 7 نومبر 1862 📍

ابو الظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (24 اکتوبر 1775ء – 7 نومبر 1862ء) مغلیہ سلطنت کے بیسویں اور آخری تاجدار، تحریکِ آزادی 1857ء کے قائد اور اردو کلاسیکی ادب کے انتہائی صاحبِ طرز،...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے