شاعری ہب / غزل / ہے عشق تو پھر صبر و قرار کہاں

ہے عشق تو پھر صبر و قرار کہاں

Hai Ishq to Phir Sabr-o-Qaraar Kahan Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہے عشق تو پھر صبر و قرار کہاں

دلِ بے تاب کا اب اعتبار کہاں

ہم تو نکلے تھے اس دیارِ وفا کے لیے

پر زمانے میں وہ خلوص کا پیار کہاں

ظفرؔ ستم کی ہر اک رات کٹ ہی جائے گی

پر وہ گزری ہوئی بزمِ نگار کہاں

Hai Ishq To Phir Sabr-o-Qaraar Kahan

Dil-e-Be-Taab Ka Ab Aetbaar Kahan

Hum To Nikle The Us Diyaar-e-Wafa Ke Liye

Par Zamane Mein Woh Khuloos Ka Pyaar Kahan

غزل
Comment
بہادر شاہ ظفر
تعارفِ شاعر

بہادر شاہ ظفر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 24 اکتوبر 1775 — 7 نومبر 1862 📍

ابو الظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (24 اکتوبر 1775ء – 7 نومبر 1862ء) مغلیہ سلطنت کے بیسویں اور آخری تاجدار، تحریکِ آزادی 1857ء کے قائد اور اردو کلاسیکی ادب کے انتہائی صاحبِ طرز،...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے