شاعری ہب / غزل / وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

Woh Log Bohot Khush-Qismat The

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے

یا کام سے عاشقی کرتے تھے

ہم جیتے جی مصروف رہے

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا

اور عشق سے کام الجھتا رہا

پھر آخر کار تنگ آ کر

ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

Woh Log Bohat Khush-Qismat The

Jo Ishq Ko Kaam Samajhte The

Ya Kaam Se Aashiqi Karte The

Hum Jeete Jee Masroof Rahe

Kuch Ishq Kiya, Kuch Kaam Kiya

غزل
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے