وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
Woh Log Bohot Khush-Qismat The
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر کار تنگ آ کر
ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Woh Log Bohat Khush-Qismat The
Jo Ishq Ko Kaam Samajhte The
Ya Kaam Se Aashiqi Karte The
Hum Jeete Jee Masroof Rahe
Kuch Ishq Kiya, Kuch Kaam Kiya
غزل
تعارفِ شاعر
فیض احمد فیض
فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...
