شاعری ہب / غزل / کربِ تنہائی کو اب شعلۂ دل ہونے دے

کربِ تنہائی کو اب شعلۂ دل ہونے دے

Karb-e-Tanhai ko Ab Shola-e-Dil Hone De

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کربِ تنہائی کو اب شعلۂ دل ہونے دے

مجھ کو ہر لمحہ ترے درد کا قائل ہونے دے

ہم تو نکلے تھے وفا کی راہ سجانے کے لیے

اب مرے پاؤں کو زنجیرِ سلاسل ہونے دے

محسنؔ اس بزم میں جینا تو محال ہے سدا

اب مرے خون کو ہی مقتل کا حاصل ہونے دے

Karb-e-Tanhai Ko Ab Shola-e-Dil Hone De

Mujh Ko Har Lamha Tere Dard Ka Qail Hone De

Hum To Nikle The Wafa Ki Raah Sajane Ke Liye

Ab Mere Paaon Ko Zanjeer-e-Salasil Hone De

غزل
Comment
محسن نقوی
تعارفِ شاعر

محسن نقوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 مئی 1947 — 15 جنوری 1996 📍 ڈیرہ غازی خان / لاہور، پاکستان

سید غلام عباس المعروف محسن نقوی (5 مئی 1947ء – 15 جنوری 1996ء) پاکستان کے صفِ اول کے عظیم، بے حد مقبول اور دلوں کو چھو لینے والے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ ڈیرہ غازی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے