شاعری ہب / شعر / اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

Urdu Hai Jis ka Naam Humein Jaante Hain Dagh Sher

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

Urdu Hai Jis Ka Naam Humein Jaante Hain Dagh

Saare Jahan Mein Dhoom Hamari Zabaan Ki Hai

شعر
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے