شاعری ہب / شعر / لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

Lutf Woh Ishq mein Paaye Hain ke Jee Jaanta Hai Sher

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

رنج بھی اتنے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

Lutf Woh Ishq Mein Paaye Hain Ke Jee Jaanta Hai

Ranj Bhi Itne Uthaye Hain Ke Jee Jaanta Hai

شعر
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔