شاعری ہب / غزل / تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا

تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا

To Dost Ksi ka bhi Stmgr Nh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا

اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

چھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضا نے

خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا

توفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ازل سے

آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

To Dost kisi ka bhi stmgr na hua tha

Auron pe hai woh Zulm ke mujh par na hua tha

Chhora Mah-e nkhshb ki tara dast-e qaza Ne

Khorshid hnoz Is ke Barabar na hua tha

Tofiq bah andaz-e himmat hai Azal se

Aankhon mein hai woh qatra ke gohr na hua tha

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے