شاعری ہب / غزل / ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

Thaani Thi Dil mein Ab na Milenge Kisi se Hum Ghazal Momin

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم!

ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی کے ساتھ

منہ پھیر کر روتے ہیں زار و قطار جی سے ہم!

مومنؔ اس عاشقی کے فسانے کا کیا بنے

جب لٹ گئے وفا کے ہر اک کارزار میں ہم!

Thaani Thi Dil Mein Ab Na Milenge Kisi Se Hum

Par Kya Karein Ke Ho Gaye Naachaar Ji Se Hum!

Hanste Jo Dekhte Hain Kisi Ko Kisi Ke Saath

Munh Pher Kar Rote Hain Zaar-o-Qataar Ji Se Hum!

غزل Urdu
Comment
حکیم مومن خان مومن
تعارفِ شاعر

حکیم مومن خان مومن

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1800 — 14 مئی 1852 📍

حکیم مومن خان مومنؔ (1800ء – 14 مئی 1852ء) اردو غزل کی تاریخ کے سب سے پروقار، نازک خیال، رومان پرور اور رمز و کنایہ کے امام شاعر تھے۔ آپ دہلی میں شاہ عبد العزیز...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے