شاعری ہب / غزل / تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

Tum Mere Paas Hote Ho Goya Ghazal Momin

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا!

حالِ دل یار کو سناؤں کیا

جو مری بے خودی نہیں ہوتا!

مومنؔ اس نازنیں کا کیا کہنا

جس کا کوئی ثانی نہیں ہوتا!

سچی چاہت کا رنگ سدا رہے گا

جسے وقت بھی مٹا نہیں سکتا!

Tum Mere Paas Hote Ho Goya

Jab Koi Doosra Nahin Hota!

Haal-e-Dil Yaar Ko Sunaaoon Kya

Jo Meri Be-Khudi Nahin Hota!

Momin Is Naazneen Ka Kya Kahna

Jis Ka Koi Saani Nahin Hota!

Sacchi Chaahat Ka Rang Sada Rahe Ga

Jise Waqt Bhi Mita Nahin Sakta!

غزل Urdu
Comment
حکیم مومن خان مومن
تعارفِ شاعر

حکیم مومن خان مومن

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1800 — 14 مئی 1852 📍

حکیم مومن خان مومنؔ (1800ء – 14 مئی 1852ء) اردو غزل کی تاریخ کے سب سے پروقار، نازک خیال، رومان پرور اور رمز و کنایہ کے امام شاعر تھے۔ آپ دہلی میں شاہ عبد العزیز...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے