شاعری ہب / غزل / چپ رہتا ہے وہ اور آنکھیں بولتی رہتی ہیں

چپ رہتا ہے وہ اور آنکھیں بولتی رہتی ہیں

Chup Rahta Hai Wo aur Aankhein Bolti Rahti Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

چپ رہتا ہے وہ اور آنکھیں بولتی رہتی ہیں

اور کیا کیا بھید نظر کے کھولتی رہتی ہیں

وہ ہاتھ مرے اندر کیا موسم ڈھونڈتا ہے

اور انگلیاں کیسے خواب ٹٹولتی رہتی ہیں

اک وقت تھا جب یہی چاند تھا اور سناٹا تھا

اور اب یہی شامیں موتی رولتی رہتی ہیں

یاد آتی ہیں اسکی پیار بھری باتیں شب بھر

اور سارے بدن میں امرت گھولتی رہتی ہیں

Chup rhta hai woh aur Aankhein bolti rhti hain

Aur kiya kiya bhed Nazar ke kholti rhti hain

Woh haath mare andar kiya mausam dhondta hai

Aur anglian kaise Khwab ttolti rhti hain

Ik Waqt tha jab ihi Chaand tha aur sannata tha

Aur ab ihi Shamain Moti rolti rhti hain

Yaad aati hain Uski pyaar bhri Batein Shab bhr

Aur Sare badan mein amrit gholti rhti hain

غزل
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے