شاعری ہب / غزل / ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں (شاہکار بالِ جبریل)

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں (شاہکار بالِ جبریل)

Sitaaron se Aage Jahaan aur bhi Hain Ghazal Iqbal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!

تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں

یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں!

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر

چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں!

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم

مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں!

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں!

اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا

کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں!

Sitaaron Se Aage Jahaan Aur Bhi Hain

Abhi Ishq Ke Imtihaan Aur Bhi Hain!

Tahi Zindagi Se Nahin Yeh Fazaayein

Yahan Sainkadon Kaarwaan Aur Bhi Hain!

Qana'at Na Kar Aalam-e-Rang-o-Boo Par

Chaman Aur Bhi Aashiyaan Aur Bhi Hain!

Agar Kho Gaya Ik Nasheman To Kya Gham

Maqaamaat-e-Aah-o-Fughaan Aur Bhi Hain!

Tu Shaheen Hai Parwaaz Hai Kaam Tera

Tere Saamne Aasmaan Aur Bhi Hain!

Usi Roz-o-Shab Mein Uljh Kar Na Rah Ja

Ke Tere Zamaan-o-Makaan Aur Bhi Hain!

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے