شاعری ہب / نظم / شامِ انقلاب

شامِ انقلاب

Sham-e-Inqilaab Nazm Zaheer Kashmiri

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شامِ انقلاب کی سرخی گواہی دیتی ہے

کہ اب ظلم کی رات کا خاتمہ ہونے والا ہے!

ہم نے جو بوئے تھے آزادی کے سرخ گلاب

ان کا ثمر اب ہر مظلوم پانے والا ہے!

ظہیرؔ خطیبِ انقلاب کا یہ نغمہ سدا گونجے گا

جس سے دونوں جہاں جگمگانے والا ہے!

Shaam-e-Inqilaab Ki Surkhi Gawaahi Deti Hai

Ke Ab Zulm Ki Raat Ka Khaatma Hone Wala Hai!

Hum Ne Jo Boye The Aazaadi Ke Surkh Gulaab

Un Ka Samar Ab Har Mazloom Paane Wala Hai!

نظم Urdu
Comment
ظہیر کاشمیری
تعارفِ شاعر

ظہیر کاشمیری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 21 اگست 1919 — 12 دسمبر 1994 📍

پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے