شاعری ہب / نظم / اوراقِ مصور

اوراقِ مصور

Auraaq-e-Musawwar Nazm Zaheer

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اوراقِ مصور پہ لکھی گئی ہے انسانی جدوجہد کی داستان

جہاں ہر رنگ میں قربانی کی خوشبو بسی ہے!

ہم نے تو تاریک راہوں میں مشعلیں جلائیں

تا کہ آنے والی نسلوں کا سویرا روشن ہو سکے!

ظہیرؔ قلم کی یہ طاقت سدا ناقابلِ تسخیر رہے گی

جس نے زمانے کو نیا شعور بخشا ہے!

Auraaq-e-Musawwar Pe Likhi Gayi Hai Insaani Jaddo-Jahad Ki Daastaan

Jahan Har Rang Mein Qurbaani Ki Khushboo Basi Hai!

Hum Ne To Taareek Raahon Mein Mash'alein Jalaayein

Ta Ke Aane Wali Naslon Ka Sawera Roshan Ho Sake!

نظم Urdu
Comment
ظہیر کاشمیری
تعارفِ شاعر

ظہیر کاشمیری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 21 اگست 1919 — 12 دسمبر 1994 📍

پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے