شاعری ہب / نظم / عظمتِ آدم (شاہکار انقلابی نظم)

عظمتِ آدم (شاہکار انقلابی نظم)

Azmat-e-Aadam Nazm Zaheer Kashmiri

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سجدہ کرتا ہے جہاں آدمِ خاکی کے لیے

کہ فرشتوں کو بھی معراج عطا کرتا ہے!

محنت کش کے پسینے سے نکھرتی ہے یہ دھرتی

جو اندھیروں میں بھی خورشید پیدا کرتا ہے!

ہم نے تو لکھی ہے انسان کی آزادی کی تاریخ

جس نے ہر جابر کے ایوان کو لرزہ براندام کیا ہے!

ظہیرؔ انقلاب کی یہ للکار سدا گونجے گی

جس نے مظلوم کو دنیا کا تاج بنا دیا ہے!

Sajda Karta Hai Jahan Aadam-e-Khaaki Ke Liye

Ke Farishton Ko Bhi Me'raaj Ata Karta Hai!

Mehnat-Kash Ke Paseene Se Nikharti Hai Yeh Dharti

Jo Andheron Mein Bhi Khursheed Paida Karta Hai!

Hum Ne To Likhi Hai Insaan Ki Aazaadi Ki Tareekh

Jis Ne Har Jaabir Ke Eewaan Ko Larza Bar-Andaam Kiya Hai!

نظم Urdu
Comment
ظہیر کاشمیری
تعارفِ شاعر

ظہیر کاشمیری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 21 اگست 1919 — 12 دسمبر 1994 📍

پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے