شاعری ہب / نظم / سفید گلاب اور خاموشی

سفید گلاب اور خاموشی

Safaid Gulaab aur Khamoshi Nazm Munir Niazi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سفید گلاب کی پنکھڑیوں پر شبنم کا قطرہ

جیسے کسی معصوم آنکھ کا اشک ہو!

وہ جو خاموش رہ کر سب کچھ کہہ گیا

اس کے دل کا درد کون پہچان سکے!

منیرؔ اس دنیا کے شور میں وہ گیت کھو گیا

جو تنہائی کی رت میں گنگنایا گیا تھا!

Safaid Gulaab Ki Pankhadiyon Par Shabnam Ka Qatra

Jaise Kisi Masoom Aankh Ka Ashk Ho!

Woh Jo Khamosh Reh Kar Sab Kuch Keh Gaya

Us Ke Dil Ka Dard Kaun Pehchan Sake!

نظم Urdu
Comment
منیر نیازی
تعارفِ شاعر

منیر نیازی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 9 اپریل 1928 — 26 دسمبر 2006 📍 ہوشیار پور / ساہیوال / لاہور، پاکستان

منیر احمد نیازی (9 اپریل 1928ء – 26 دسمبر 2006ء) اردو اور پنجابی ادب کے سب سے منفرد، طلسماتی، پرشکوہ اور سحر انگیز شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آپ خان پور (ضلع ہوشیار پور، بھارت)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے