شاعری ہب / نظم / ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں (شاہکار نظم)

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں (شاہکار نظم)

Hamesha Der Kar Deta Hoon Main Nazm Munir Niazi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو

اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں!

مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو

بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں!

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو

کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں!

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو

حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں!

Hamesha Der Kar Deta Hoon Main Har Kaam Karne Mein

Zaroori Baat Kehni Ho, Koi Waada Nibhana Ho

Use Awaaz Deni Ho, Use Wapas Bulana Ho

Hamesha Der Kar Deta Hoon Main!

Madad Karni Ho Us Ki, Yaar Ki Dhaaras Bandhana Ho

Bahut Dareena Raston Par Kisi Se Milne Jaana Ho

Hamesha Der Kar Deta Hoon Main!

Kisi Ko Maut Se Pehle Kisi Gham Se Bachana Ho

Haqeeqat Aur Thi Kuch Us Ko Jaa Ke Yeh Batana Ho

Hamesha Der Kar Deta Hoon Main Har Kaam Karne Mein!

نظم Urdu
Comment
منیر نیازی
تعارفِ شاعر

منیر نیازی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 9 اپریل 1928 — 26 دسمبر 2006 📍 ہوشیار پور / ساہیوال / لاہور، پاکستان

منیر احمد نیازی (9 اپریل 1928ء – 26 دسمبر 2006ء) اردو اور پنجابی ادب کے سب سے منفرد، طلسماتی، پرشکوہ اور سحر انگیز شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آپ خان پور (ضلع ہوشیار پور، بھارت)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے