شاعری ہب / نظم / دشمنوں کے درمیان شام

دشمنوں کے درمیان شام

Dushmanon ke Darmiyan Shaam Nazm Munir Niazi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دشمنوں کے درمیان شام ہو گئی ہے

اور چاروں طرف خاموش درختوں کے سائے ہیں!

ہوا میں ایک عجیب سا وسوسہ اور خوف ہے

جیسے کسی اندھے کنویں سے کوئی صدا آتی ہو!

میں اکیلا کھڑا ہوں اپنے چراغ کے ساتھ

اور ظلمت کا لشکر سامنے سے بڑھتا چلا آ رہا ہے!

منیرؔ سچائی کی اس جنگ میں ہمت نہ ہارنا

صبح کی پہلی کرن ان تاریکیوں کو چیر دے گی!

Dushmanon Ke Darmiyan Shaam Ho Gayi Hai

Aur Chaaron Taraf Khamosh Darakhton Ke Saaye Hain!

Hawa Mein Ek Ajeeb Sa Waswasa Aur Khauf Hai

Jaise Kisi Andhe Kuyein Se Koi Sada Aati Ho!

Main Akela Khada Hoon Apne Chiraagh Ke Saath

Aur Zulmat Ka Lashkar Saamne Se Badhta Chala Aa Raha Hai!

نظم Urdu
Comment
منیر نیازی
تعارفِ شاعر

منیر نیازی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 9 اپریل 1928 — 26 دسمبر 2006 📍 ہوشیار پور / ساہیوال / لاہور، پاکستان

منیر احمد نیازی (9 اپریل 1928ء – 26 دسمبر 2006ء) اردو اور پنجابی ادب کے سب سے منفرد، طلسماتی، پرشکوہ اور سحر انگیز شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آپ خان پور (ضلع ہوشیار پور، بھارت)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے