شاعری ہب / نظم / ساقی

ساقی

Saaqi – Nasha Pila Ky Girana to Sab ko Aata Hy

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقي

جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہيں

کہيں سے آب بقائے دوام لے ساقي!

کٹي ہے رات تو ہنگامہ گستري ميں تري

سحر قريب ہے، اللہ کا نام لے ساقي!

Saqi

The Cup‐Bearer

Nasha Pila Ke Girana To Sub Ko Ata Hai

Maza To Jab Hai Ke Girton Ko Thaam Le Saqi

Jo Badah Kash The Purane, Woh Uthte Jate Hain

Kaheen Se Aab-e-Baqaye Dawam Le Saqi

Kati Hai Raat To Hangama Gustari Mein Teri

Sehar Qareeb Hai, Allah Ka Name Le Saqi

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے