شاعری ہب / غزل / بے وفا سے بھی وفا کرتے ہیں

بے وفا سے بھی وفا کرتے ہیں

Be-Wafa se bhi Wafa Karte Hain Karne Wale

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بے وفا سے بھی وفا کرتے ہیں کرنے والے

جان بھی دیتے ہیں الفت میں مٹنے والے

ہم تو سمجھے تھے کہ رُک جائے گا طوفانِ ستم

پر یہاں موج در موج ہیں دکھ سہنے والے

دل کی بستی میں چراغوں کو جلائے رکھنا

آئیں گے اک دن ترے شہر میں بسنے والے

Be-Wafa Se Bhi Wafa Karte Hain Karne Wale

Jaan Bhi Dete Hain Ulfat Mein Mitne Wale

Hum To Samjhe The Ke Ruk Jaye Ga Toofan-e-Sitam

Par Yahan Moj Dar Moj Hain Dukh Sehne Wale

غزل
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے