شاعری ہب / غزل / قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو

قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو

Qfs Min Hon Gr Achha bhi Nh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو

مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو

نہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہے

نہ دی ہوتی خدایا آرزوئے دوست، دشمن کو

نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر

کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگانِ سوزن کو

Qafas mein hoon Gir achha bhi na Janen Mere shion ko

Mara hona Bura kiya hai noa snjan-e Gulshan ko

Nahin Gir hmdmi aasan na ho yeh rashk kiya Kam hai

Na Di hoti khdaia aarzoe dost Dushman ko

Na nkla aankh se Teri Ik Aansoo Is jarahat par

Kiya Seene mein Jis Ne Khoon chkan mzhgan-e sozn ko

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے