یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یا رب" ، مجھے
Iad He Shadi Min bhi Hngamh Ia
یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یا رب" ، مجھے
سبحۂ زاہد ہوا ہے ، خندہ زیرِ لب مجھے
ہے کُشادِ خاطرِ وابستہ در ، رہنِ سخن
تھا طلسمِ قفلِ ابجد ، خانۂ مکتب مجھے
یا رب ! اس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے!
رشک ، آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
Yaad hai shadi mein bhi hngamh ya Rabb Mujhe
Sbhh zahd hua hai khndh zir-e Lab Mujhe
Hai kshad khatir-e oabsth Dar rhn-e skhn
Tha tlsm-e qfl-e abjd khanh maktab Mujhe
Ya Rabb ! Is aashftgi ki dad Kis se Chahiye
Rashk aasash pe hai zndanion ki ab Mujhe
غزل
تعارفِ شاعر
مرزا غالب
مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...
