شاعری ہب / غزل / یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یا رب" ، مجھے

یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یا رب" ، مجھے

Iad He Shadi Min bhi Hngamh Ia

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یا رب" ، مجھے

سبحۂ زاہد ہوا ہے ، خندہ زیرِ لب مجھے

ہے کُشادِ خاطرِ وابستہ در ، رہنِ سخن

تھا طلسمِ قفلِ ابجد ، خانۂ مکتب مجھے

یا رب ! اس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے!

رشک ، آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے

Yaad hai shadi mein bhi hngamh ya Rabb Mujhe

Sbhh zahd hua hai khndh zir-e Lab Mujhe

Hai kshad khatir-e oabsth Dar rhn-e skhn

Tha tlsm-e qfl-e abjd khanh maktab Mujhe

Ya Rabb ! Is aashftgi ki dad Kis se Chahiye

Rashk aasash pe hai zndanion ki ab Mujhe

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے