شاعری ہب / غزل / بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

Baat Karni Mujhe Mushkil Kabhi Aisi to na Thi Ghazal Bahadur Shah Zafar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار

بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی

چشمِ قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن

جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی

ان نے کی پہلے پہل ہم سے محبت لیکن

بات بگڑی ہے جو منزل کبھی ایسی تو نہ تھی

Baat Karni Mujhe Mushkil Kabhi Aisi To Na Thi

Jaisi Ab Hai Teri Mehfil Kabhi Aisi To Na Thi

Le Gaya Chheen Ke Kaun Aaj Tera Sabr-o-Qaraar

Be-Qaraari Tujhe Aye Dil Kabhi Aisi To Na Thi

Chashm-e-Qaatil Meri Dushman Thi Hamesha Lekin

Jaisi Ab Ho Gayi Qaatil Kabhi Aisi To Na Thi

غزل
Comment
بہادر شاہ ظفر
تعارفِ شاعر

بہادر شاہ ظفر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 24 اکتوبر 1775 — 7 نومبر 1862 📍

ابو الظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (24 اکتوبر 1775ء – 7 نومبر 1862ء) مغلیہ سلطنت کے بیسویں اور آخری تاجدار، تحریکِ آزادی 1857ء کے قائد اور اردو کلاسیکی ادب کے انتہائی صاحبِ طرز،...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے