شاعری ہب / غزل / عشق میں ہم نے پایا ہے جو داغِ جگر

عشق میں ہم نے پایا ہے جو داغِ جگر

Ishq mein Hum Ne Paya Hai Jo Daagh-e-Jigar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

عشق میں ہم نے پایا ہے جو داغِ جگر

وہ تو روشن رہے گا سدا تا سحر

ہم نے دہلی کو چھوڑا تو ویران ہو گئی بزم

اب کہاں ڈھونڈو گے وہ شاہانہ ہنر

ظفرؔ وقت کی گرد میں سب چھپ ہی جائے گا

پر یہ غزل گونجتی رہے گی ادھر ادھر

Ishq Mein Hum Ne Paaya Hai Jo Daagh-e-Jigar

Woh To Roshan Rahe Ga Sada Taa Sahar

Hum Ne Dehli Ko Chhoda To Weeran Ho Gayi Bazm

Ab Kahan Dhoondo Ge Woh Shahana Hunar

غزل
Comment
بہادر شاہ ظفر
تعارفِ شاعر

بہادر شاہ ظفر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 24 اکتوبر 1775 — 7 نومبر 1862 📍

ابو الظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (24 اکتوبر 1775ء – 7 نومبر 1862ء) مغلیہ سلطنت کے بیسویں اور آخری تاجدار، تحریکِ آزادی 1857ء کے قائد اور اردو کلاسیکی ادب کے انتہائی صاحبِ طرز،...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے