شاعری ہب / غزل / دل کو تسلی کہاں سے لائیں اب

دل کو تسلی کہاں سے لائیں اب

Dil ko Tasalli Kahan se Laayein Ab

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل کو تسلی کہاں سے لائیں اب

کس گلی میں وفا کو ڈھونڈیں اب

وہ جو کہتے تھے کہ ہم ہیں ترے ساتھی سدا

وہ تو رخصت ہوئے اندھیروں میں اب

ظفرؔ اس خاک پر ہی سجدہ ادا کریں گے

جس خاک کو چھوڑ کے پردیس آئے ہیں اب

Dil Ko Tasalli Kahan Se Laayein Ab

Kis Gali Mein Wafa Ko Dhoondein Ab

Woh Jo Kehte The Ke Hum Hain Tere Saathi Sada

Woh To Rukhsat Hue Andheron Mein Ab

غزل
Comment
بہادر شاہ ظفر
تعارفِ شاعر

بہادر شاہ ظفر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 24 اکتوبر 1775 — 7 نومبر 1862 📍

ابو الظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (24 اکتوبر 1775ء – 7 نومبر 1862ء) مغلیہ سلطنت کے بیسویں اور آخری تاجدار، تحریکِ آزادی 1857ء کے قائد اور اردو کلاسیکی ادب کے انتہائی صاحبِ طرز،...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے