شاعری ہب / نظم / پذیرائی

پذیرائی

Paziiraaii

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ابھی میں نے دہلیز پر پاؤں رکھا ہی تھا کہ

کسی نے مرے سر پہ پھولوں بھرا تھال الٹا دیا

میرے بالوں پہ آنکھوں پہ پلکوں پہ، ہونٹوں پہ،

ماتھے پہ، رخسار پر

پھول ہی پھول تھے

دو بہت مسکراتے ہوئے ہونٹ

میرے بدن پر محبت کی گلنار مہروں کو یوں ثبت کرتے

چلے جا رہے تھے

کہ جیسے ابد تک

مری ایک اک پور کا انتساب

اپنی زیبائی کے نام لے کر رہیں گے

مجھے اپنے اندر سمو کر رہیں گے!

Abhi mein Ne dhliz par paaon rakha hi tha ke

Kisi Ne mare sar pe Phoolon bhra thal alta diya

Mere balon pe Aankhon pe plkon ph Honton ph

Maathe ph Rukhsaar par

Phool hi Phool the

Do bahut mskratey hue hoont

Mere badan par Mohabbat ki glnar mhron ko Yun sbt karte

Chale ja rhey the

Ke jaise Abad tak

Mri Ek Ik pur ka antsab

Apni zibai ke Naam le kar rhin Ge

Mujhe Apne andar smo kar rhin Ge

نظم
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے