شاعری ہب / نظم / آئینہ

آئینہ

Aaiina Ladkii Sar ko Jhukaae Baithii

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لڑکی سر کو جھکائے بیٹھی

کافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہے

لڑکا حیرت اور محبت کی شدت سے پاگل

لانبی پلکوں کے لرزیدہ سایوں کو

اپنی آنکھ سے چوم رہا ہے

دونوں میری نظر بچا کر

اک دوجے کو دیکھتے ہیں ہنس دیتے ہیں

میں دونوں سے دور

دریچے کے نزدیک

اپنی ہتھیلی پر اپنا چہرہ رکھے

کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی ہوں

سوچ رہی ہوں

گئے دنوں میں ہم بھی یوں ہی ہنستے تھے

Ladki sar ko jhkae bithi

Kaafi ke Pyale mein chamcha hla rhi hai

Laṛka hairat aur Mohabbat ki shiddat se pagal

Lanbi plkon ke lrzidh saion ko

Apni aankh se Choom Raha hai

Donon Meri Nazar bcha kar

Ik dojey ko dekhte hain hns dete hain

Mein Donon se door

Drichey ke nazdik

Apni hatheli par Apna Chehra rakhe

Khirki se bahar ka manzar dekh rhi hoon

Soch rhi hoon

Gaye Dinon mein Hum bhi Yun hi hnstey the

نظم
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے