شاعری ہب / غزل / وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے

وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے

Ofa Jfa ki Tlb Gar Hoti Aai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے

ازل کے دن سے یہ اے یار ہوتی آئی ہے

جوابِ جنّتِ بزمِ نشاطِ جاناں ہے

مری نگاہ جو خوں بار ہوتی آئی ہے

نموئے جوشِ جنوں وحشیو! مبارک باد

بہار ہدیۂ انظار ہوتی آئی ہے

Wafa Jafa ki Talab Gaar hoti Aai hai

Azal ke Din se yeh aey Yaar hoti Aai hai

Jawaab-e jnt bzm-e nshat-e janan hai

Mri Nigah jo Khoon Baar hoti Aai hai

Nmoee josh-e jnon ohshio mubarak bad

Bahar hdi-e anzar hoti Aai hai

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے