شاعری ہب / غزل / وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو

Oarsth As se Hin Kh Mhbt hi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو

کیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو

چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا

ہے دل پہ بار، نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو

ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ

ہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو

Oarsth Is se hain ke mhbt hi kyun na ho

Keeje Hamare sath adaot hi kyun na ho

Chhora na mujh mein zaf Ne rang ikhtilat ka

Hai Dil pe bar nqsh-e mhbt hi kyun na ho

Hai mujh ko tujh se tzkr-e Ghair ka gila

Har Chand br sbil-e shikayat hi kyun na ho

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے