شاعری ہب / غزل / مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

Musalman ke Lahu mein Hai Saliqa Dil-Nawazi ka

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی کا

شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے

سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا

بہت مدت کے نخچیروں کا انداز نگہ بدلا

کہ میں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا

قلندر جز دو حرف لا الٰہ کچھ بھی نہیں رکھتا

فقیہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا

حدیث بادہ و مینا و جام آتی نہیں مجھ کو

نہ کر خاراشگافوں سے تقاضا شیشہ سازی کا

کہاں سے تو نے اے اقبالؔ سیکھی ہے یہ درویشی

کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا

Musalman Ke Lahoo Mein Hai, Saliqa Dil Nawazi Ka

Marawwat Husn-E-Alamgeer Hai Mardan-E-Ghazi Ka

Shikayat Hai Mujhe Ya Rab! Khudawand-E-Maktab Se

Sabaq Shaheen Bachon Ko De Rahe Hain Khaakbazi Ka

Bohat Muddat Ke Nakhcheeron Ka Andaz-E-Nigah Badla

Ke Main Ne Faash Kar Dala Tareeqah Shahbazi Ka

Qalander Juz Do Harf-E-LA ILAHA Kuch Bhi Nahin Rakhta

Faqeeh-E-Sheher Qaroon Hai Lighat-E-Ha’ay Hijazi Ka

Hadees-E-Badah-O-Meena-O-Jaam Ati Nahin Mujh Ko

Na Kar Khara Shighafon Se Taqaza Shisha Sazi Ka

Kahan Se Tu Ne Ae Iqbal Seekhi Hai Darveshi

Ke Charcha Padshahon Mein Hai, Teri Be-Niazi Ka

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔