شاعری ہب / غزل / گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ

گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ

Gulzar-e-Hast-e-Bud na Begana-War Dekh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ

ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ

آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ

دم دے نہ جائے ہستیٔ نا پائیدار دیکھ

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں

تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر

ہر رہ گزر میں نقش کف پائے یار دیکھ

Gulzar-e-Hast-o-Bood Na Beganawar Dekh

Hai Dekhne Ki Cheez Isse Bar Bar Dekh

Aya Hai Tu Jahan Mein Msal-e-Sharar Dekh

Dam De Na Jaye Hasti-e-Na-Paidar Dekh

Mana Ke Teri Deed Ke Qabil Nahin Hun Main

Tu Mera Shauq Dekh, Mera Intizar Dekh

Kholi Hain Zauq-e-Deed Ne Ankhain Teri Agar

Har Reh Guzar Mein Naqsh-e-Kaf-e-Paye Yaar Dekh

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے