شاعری ہب / نظم / مجھے مت بتانا

مجھے مت بتانا

Mujhe Mat Bataanaa

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مجھے مت بتانا

کہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھا

تو کیوں

اور کس وجہ سے

ابھی تو تمہارے بچھڑنے کا دکھ بھی نہیں کم ہوا

ابھی تو میں

باتوں کے وعدوں کے شہر طلسمات میں

آنکھ پر خوش گمانی کی پٹی لیے

تم کو پیڑوں کے پیچھے درختوں کے جھنڈ

اور دیوار کی پشت پر ڈھونڈنے میں مگن ہوں

کہیں پر تمہاری صدا اور کہیں پر تمہاری مہک

مجھ پہ ہنسنے میں مصروف ہے

ابھی تک تمہاری ہنسی سے نبرد آزما ہوں

اور اس جنگ میں

میرا ہتھیار

اپنی وفا پر بھروسہ ہے اور کچھ نہیں

اسے کند کرنے کی کوشش نہ کرنا

مجھے مت بتانا.....

Mujhe mat batana

Ke tum Ne Mujhe chhorney ka irada kiya tha

To kyun

Aur Kis Wajah se

Abhi to Tumhare bchhrney ka Dukh bhi nahin Kam hua

Abhi to mein

Baton ke Waadon ke Shehar tlsmat mein

Aankh par Khush gmani ki Patti liye

Tum ko Paidon ke peeche drkhton ke jhnd

Aur Deewaar ki pusht par dhondney mein mgn hoon

Kahein par Tumhari sada aur kahein par Tumhari mahak

Mujh pe hnsney mein Masroof hai

Abhi tak Tumhari Hansi se nbrd aazma hoon

Aur Is Jang mein

Mera hathiyar

Apni Wafa par bharosa hai aur Kuch nahin

Ise / Use Kund krney ki koshish na karna

Mujhe mat batana

نظم
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے