شاعری ہب / نظم / محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے

محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے

Mohabbat Aisa Dariya Hai Nazm Amjad Islam Amjad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے

تو اس کا پانی کم نہیں ہوتا!

محبت ایسا رشتہ ہے کہ صدیوں کے بچھڑنے سے

کبھی یہ ختم نہیں ہوتا!

محبت وہ سمندر ہے کہ جس کی گہرائیوں میں

فقط سچے موتی ہی ملتے ہیں!

امجدؔ محبت کے اس گلستاں میں

سدا وفا کے پھول کھلتے ہیں!

Mohabbat Aisa Dariya Hai Ke Baarish Rooth Bhi Jaaye

To Is Ka Paani Kam Nahin Hota!

Mohabbat Aisa Rishta Hai Ke Sadiyon Ke Bichhadne Se

Kabhi Yeh Khatm Nahin Hota!

Mohabbat Woh Samundar Hai Ke Jis Ki Gehraaiyon Mein

Faqat Sacche Moti Hi Milte Hain!

نظم
Comment
امجد اسلام امجد
تعارفِ شاعر

امجد اسلام امجد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 4 اگست 1944 — 10 فروری 2023 📍 لاہور، پاکستان

امجد اسلام امجد (4 اگست 1944ء – 10 فروری 2023ء) عصرِ حاضر کے انتہائی مقبول، صاحبِ طرز اور دلوں پر راج کرنے والے عظیم اردو شاعر، ڈرامہ نگار اور کالم نگار تھے۔ آپ لاہور میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے