شاعری ہب / نظم / خواب مرتے نہیں

خواب مرتے نہیں

Khwab Marte Nahin Nazm Amjad Islam Amjad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خواب مرتے نہیں!

خواب تو روشنی ہیں، نوا ہیں، ہوا ہیں

جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں!

ظلم کے دوزخوں سے جو بجھتے نہیں

برف کی سِلوں پہ جو جمتے نہیں!

خواب تو دل کی صدا ہیں

جو صدا کبھی خاموش ہوتی نہیں!

Khwab Marte Nahin!

Khwab To Roshni Hain, Nawa Hain, Hawa Hain

Jo Kaale Pahaadon Se Rukte Nahin!

Zulm Ke Dozakhon Se Jo Bujhte Nahin

Barf Ki Sillon Pe Jo Jamte Nahin!

Khwab To Dil Ki Sada Hain!

نظم
Comment
امجد اسلام امجد
تعارفِ شاعر

امجد اسلام امجد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 4 اگست 1944 — 10 فروری 2023 📍 لاہور، پاکستان

امجد اسلام امجد (4 اگست 1944ء – 10 فروری 2023ء) عصرِ حاضر کے انتہائی مقبول، صاحبِ طرز اور دلوں پر راج کرنے والے عظیم اردو شاعر، ڈرامہ نگار اور کالم نگار تھے۔ آپ لاہور میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے