شاعری ہب / نظم / اگر کبھی مری یاد آئے

اگر کبھی مری یاد آئے

Agar Kabhi Meri Yaad Aaye Nazm Amjad Islam Amjad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اگر کبھی مری یاد آئے

تو گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا

میں خوشبو بن کے ترے مساموں میں بس رہا ہوں گا!

اگر کبھی مری یاد آئے

تو چاند کی پہلی کرن کے ماتھے کو چوم لینا

میں چاندنی بن کے تیری پلکوں پہ جھومتا ہوں گا!

اگر کبھی مری یاد آئے

تو اپنے کمرے کی کھڑکیوں کو کھلا ہی رکھنا

میں بارشوں کی رم جھم میں کوئی ترانہ گا رہا ہوں گا!

امجدؔ محبت کی اس زمیں پر

وفا کے پھول کھلتے رہیں گے سدا!

Agar Kabhi Meri Yaad Aaye

To Gurez Karti Hawa Ki Lehron Pe Haath Rakhna

Main Khushboo Ban Ke Tere Masaamon Mein Bas Raha Hoon Ga!

Agar Kabhi Meri Yaad Aaye

To Chaand Ki Pehli Kiran Ke Maathe Ko Choom Lena

Main Chaandni Ban Ke Teri Palkon Pe Jhoomta Hoon Ga!

نظم
Comment
امجد اسلام امجد
تعارفِ شاعر

امجد اسلام امجد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 4 اگست 1944 — 10 فروری 2023 📍 لاہور، پاکستان

امجد اسلام امجد (4 اگست 1944ء – 10 فروری 2023ء) عصرِ حاضر کے انتہائی مقبول، صاحبِ طرز اور دلوں پر راج کرنے والے عظیم اردو شاعر، ڈرامہ نگار اور کالم نگار تھے۔ آپ لاہور میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے