اگر کبھی مری یاد آئے
Agar Kabhi Meri Yaad Aaye Nazm Amjad Islam Amjad
اگر کبھی مری یاد آئے
تو گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں خوشبو بن کے ترے مساموں میں بس رہا ہوں گا!
اگر کبھی مری یاد آئے
تو چاند کی پہلی کرن کے ماتھے کو چوم لینا
میں چاندنی بن کے تیری پلکوں پہ جھومتا ہوں گا!
اگر کبھی مری یاد آئے
تو اپنے کمرے کی کھڑکیوں کو کھلا ہی رکھنا
میں بارشوں کی رم جھم میں کوئی ترانہ گا رہا ہوں گا!
امجدؔ محبت کی اس زمیں پر
وفا کے پھول کھلتے رہیں گے سدا!
Agar Kabhi Meri Yaad Aaye
To Gurez Karti Hawa Ki Lehron Pe Haath Rakhna
Main Khushboo Ban Ke Tere Masaamon Mein Bas Raha Hoon Ga!
Agar Kabhi Meri Yaad Aaye
To Chaand Ki Pehli Kiran Ke Maathe Ko Choom Lena
Main Chaandni Ban Ke Teri Palkon Pe Jhoomta Hoon Ga!
امجد اسلام امجد
امجد اسلام امجد (4 اگست 1944ء – 10 فروری 2023ء) عصرِ حاضر کے انتہائی مقبول، صاحبِ طرز اور دلوں پر راج کرنے والے عظیم اردو شاعر، ڈرامہ نگار اور کالم نگار تھے۔ آپ لاہور میں...
