شاعری ہب / غزل / ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں

ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں

Mmkn Nhin Kh Bhol ke bhi Aarmidh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں

میں دشتِ غم میں آہوئے صیّاد دیدہ ہوں

ہوں دردمند، جبر ہو یا اختیار ہو

گہ نالۂ کشیدہ، گہ اشکِ چکیدہ ہوں

نے سُبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے رابطہ

میں معرضِ مثال میں دستِ بریدہ ہوں

Mumkin nahin ke bhool ke bhi aarmidh hoon

Mein dasht-e Gham mein aahoee siad didh hoon

Hoon drdmnd jbr ho ya ikhtiyar ho

Gh nal-e kshidh gh Ashk-e chkidh hoon

Ne sbhh se ilaqa na saghr se rabita

Mein marz-e misaal mein dast-e bridh hoon

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے