شاعری ہب / غزل / میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں

Min Aor Bzm Me se Ion Tshnh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں

گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟

ہے ایک تیر جس میں دونوں چھِدے پڑے ہیں

وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا

درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں

جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا

Mein aur bzm-e Mae se Yun tishna Kaam aaoon

Gir mein Ne ki thi tobh Saaqi ko kiya hua tha

Hai Ek Teer Jis mein Donon chhde pare hain

Woh Din gaye ke Apna Dil se jigar juda tha

Drmandgi mein ghalb Kuch ban pare to Janon

Jab rishta be grah tha naakhun grah kusha tha

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے