شاعری ہب / Kalam / معرفتِ وحدت (صوفیانہ شاہکار کلام)

معرفتِ وحدت (صوفیانہ شاہکار کلام)

Marifat-e-Wahdat Kalam Khwaja Mir Dard

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وحدتِ مطلق کا جلوہ ہے ہر سو رواں

جس سے روشن ہے یہ سارا جہاں!

نہ کوئی پردہ ہے نہ کوئی حجاب

جب اٹھے بصیرت کی چشمِ خواب!

دردؔ فنا فی اللہ کا وہ مقام پا لو

جہاں روح بنے نورِ لامکاں!

Wahdat-e-Mutlaq Ka Jalwa Hai Har Su Rawaan

Jis Se Roshan Hai Yeh Saara Jahan!

Na Koi Parda Hai Na Koi Hijaab

Jadon Uthe Baseerat Ki Chashm-e-Khwab!

Kalam Urdu
Comment
خواجہ میر درد
تعارفِ شاعر

خواجہ میر درد

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1721 — 11 جنوری 1785 📍

خواجہ سید میر محمدی المتخلص بہ دردؔ (1721ء – 11 جنوری 1785ء) اردو کلاسیکی شاعری کے ارکانِ اربعہ (میر، سودا، درد اور اثر) میں شامل صوفی باصفا اور دہلی کے عظیم ترین صوفی شاعر تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے