شاعری ہب / غزل / خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

Khirad-Mandon se Kya Puchhun ki Meri Ibtida Kya Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوں

یہی سوز نفس ہے اور میری کیمیا کیا ہے

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں

نہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کیا ہے

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں

تو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا

خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے

Khird-Mandon Se Kya Puchon Ke Meri Ibtida Kya Hai

Ke Main Iss Fikar Mein Rehta Hun, Meri Intiha Kya Hai

Khudi Ko Kar Buland Itna Ke Har Taqdeer Se Pehle

Khuda Bande Se Khud Puche, Bata Teri Raza Kya Hai

Maqam-e-Guftugu Kya Hai Agar Main Keemiya-Gar Hun

Yehi Souz-e-Nafas Hai, Aur Meri Keemiya Kya Hai

Nazar Ayeen Mujhe Taqdeer Ki Gehraiyan Uss Mein

Na Puch Ae Hum-Nasheen Mujh Se Woh Chashm-e-Surma Sa Kya Hai

Agar Hota Woh Majzoob*-e-Farangi Iss Zamane Mein

To Iqbal Uss Ko Samjhata Maqam-e-Kibriya Kya Hai

Nawa-e-Subahgahi Ne Jigar Khoon Kar Diya Mera

Khudaya Jis Khata Ki Ye Saza Hai, Woh Khata Kya Hai

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔