شاعری ہب / غزل / کون رکھے گا ہمیں یاد اِس دورِ خود غرضی میں

کون رکھے گا ہمیں یاد اِس دورِ خود غرضی میں

Kon Rakhay Ga Hamein Yaad Iss Dour E Khud Gharzi mein

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کون رکھے گا ہمیں یاد اِس دورِ خود غرضی میں

حالات ایسے ہیں کے لوگوں کو خدا یاد نہیں

ہم کون ہیں کیا ہیں با خدا یاد نہیں

اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں

ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس

ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں

بنت حوا کو نچاتے ہیں سرے عام محفل میں

کتنے سنگ دل ہیں کہ رسم حیا یاد نہیں

آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید

سب کچھ ہے یاد مگر خدا یاد نہیں

کون رکھے گا ہمیں یاد اِس دورِ خود غرضی میں

حالات ایسے ہیں کے لوگوں کو خدا یاد نہیں

Kon Rakhay Ga Hamein Yaad Iss Dour E Khud Gharzi Mein

Halaat aise hain ke logon ko khuda yaad nahi

Hum kon hain kia hain ba khuda yaad nahi

Apne islaaf ki koi bhi ada yaad nahi

Hai agar yaad to kafir ke taranay hi bas

Hai agar nahi yaad to masjid ki sada yaad nahi

Bint hawa ko nachatay hain saray aam mehfil mein

Kitne sang dil hain keh rasm haya yaad nahi

Aaj apni zillat ka sabab yahi hai shayad

Sab kuch hai diya magar khuda yaad nahi

Kon rakhay ga hamein yaad iss dour e khud gharzi mein

Halaat aise hain ke logon ko khuda yaad nahi

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے