شاعری ہب / غزل / خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Ghani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے

کہ روح کی صدا کو دبایا نہیں جا سکتا سدا!

ہم نے تو ظلم کے ہر وار کو خندہ پیشانی سے سہا

پر حق کے راستے سے قدم ہٹایا نہیں جا سکتا سدا!

غنیؔ غیرت و خودداری کا یہ سفر سدا تابندہ رہے گا

جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا سدا!

Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai

Ke Rooh Ki Sada Ko Dabaya Nahin Ja Sakta Sada!

Hum Ne To Zulm Ke Har Waar Ko Khanda-Peshani Se Saha

Par Haq Ke Raaste Se Qadam Hataya Nahin Ja Sakta Sada!

غزل Pashto
Comment
غنی خان
تعارفِ شاعر

غنی خان

🏛️ عہدِ جدید ⏳ دسمبر 1914 — 15 مارچ 1996 📍 ہشت نگر، چارسدہ، پاکستان

خان عبد الغنی خان المعروف غنیؔ خان (دسمبر 1914ء – 15 مارچ 1996ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم پشتو فلسفی شاعر، مصور، مجسمہ ساز اور صاحبِ طرز دانشور مانے جاتے ہیں۔ آپ تحریکِ آزادی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے