شاعری ہب / غزل / وہ آئے بھی تو اک بہار کی طرح

وہ آئے بھی تو اک بہار کی طرح

Woh Aaye bhi to Ik Bahaar ki Tarah Ghani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ آئے بھی تو اک بہار کی طرح ملے ہم سے

اور پلک جھپکتے ہی دھرتی کو مہکا دیا!

ہم نے تو سجائی تھی تری دید کی حسیں محفل

جہاں ہر لمحے کو یادوں کا دیپ بنا دیا!

غنیؔ محبت اور مستی کا یہ نغمہ سدا رہے گا

جس نے دل کے ہر درد کو راحت بنا دیا!

Woh Aaye Bhi To Ik Bahaar Ki Tarah Mile Hum Se

Aur Palak Jhapakte Hi Dharti Ko Mehka Diya!

Hum Ne To Sajayi Thi Teri Deed Ki Haseen Mehfil

Jahan Har Lamhe Ko Yaadon Ka Deep Bana Diya!

غزل Pashto
Comment
غنی خان
تعارفِ شاعر

غنی خان

🏛️ عہدِ جدید ⏳ دسمبر 1914 — 15 مارچ 1996 📍 ہشت نگر، چارسدہ، پاکستان

خان عبد الغنی خان المعروف غنیؔ خان (دسمبر 1914ء – 15 مارچ 1996ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم پشتو فلسفی شاعر، مصور، مجسمہ ساز اور صاحبِ طرز دانشور مانے جاتے ہیں۔ آپ تحریکِ آزادی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے