شاعری ہب / غزل / خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Aali

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے

کہ ضمیر کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا سدا!

ہم نے تو سچائی کے لیے ہر آزمائش کو سہا

پر حق کے راستے سے قدم ہٹایا نہیں جا سکتا سدا!

عالیؔ خودداری کا یہ سفر سدا تابندہ رہے گا

جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا سدا!

Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai

Ke Zameer Ki Awaaz Ko Dabaya Nahin Ja Sakta Sada!

Hum Ne To Sacchayi Ke Liye Har Aazmaayish Ko Saha

Par Haq Ke Raaste Se Qadam Hataya Nahin Ja Sakta Sada!

غزل Urdu
Comment
جمیل الدین عالی
تعارفِ شاعر

جمیل الدین عالی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 20 جنوری 1925 — 23 نومبر 2015 📍

نوابزادہ مرزا جمیل الدین احمد المعروف جمیلؔ الدین عالی (20 جنوری 1925ء – 23 نومبر 2015ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید دوہا نگاری کے بانیِ اعظم، پاکستان کے عظیم ترین قومی و ملی نغمات...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے