شاعری ہب / غزل / شبِ فراق کا موسم ہے اور ہم ہیں

شبِ فراق کا موسم ہے اور ہم ہیں

Shab-e-Firaq ka Mausam Hai aur Hum Hain Aali

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شبِ فراق کا موسم ہے اور ہم ہیں تنہا

پر دل میں امید کی اک شمع سدا چمکتی ہے!

ہم نے تو اپنے دکھوں کو حوصلہ بنا لیا

جس سے انسانی عزم کی نئی تاریخ بنتی ہے!

عالیؔ سچے جذبوں کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے ہم

جس سے ہر تاریک راہ بھی روشن بنتی ہے!

Shab-e-Firaq Ka Mausam Hai Aur Hum Hain Tanha

Par Dil Mein Umeed Ki Ik Shama Sada Chamakti Hai!

Hum Ne To Apne Dukhon Ko Hausla Bana Liya

Jis Se Insaani Azm Ki Nayi Tareekh Banti Hai!

غزل Urdu
Comment
جمیل الدین عالی
تعارفِ شاعر

جمیل الدین عالی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 20 جنوری 1925 — 23 نومبر 2015 📍

نوابزادہ مرزا جمیل الدین احمد المعروف جمیلؔ الدین عالی (20 جنوری 1925ء – 23 نومبر 2015ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید دوہا نگاری کے بانیِ اعظم، پاکستان کے عظیم ترین قومی و ملی نغمات...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے