شاعری ہب / غزل / جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

Jo Guzari na Ja Saki Hum se Hum Ne Wo Zindagi Guzari Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

دل کی بربادیوں کے تذکرے چھوڑ

اب تو اک شے کی پاسداری ہے

شوق میں کچھ نہیں گیا لیکن

شوق کی زندگی گزاری ہے

ہم کو اب کیا ملالِ ہستی ہو

ہم نے ہر رسم توڑ ڈالی ہے

اب مرا کوئی بھی نہیں ہے یہاں

بے دلی سب پہ میری بھاری ہے

Jo Guzari Na Ja Saki Hum Se

Hum Ne Woh Zindagi Guzari Hai

Dil Ki Barbaadiyon Ke Tazkare Chhod

Ab To Ik Shay Ki Paasdaari Hai

Shauq Mein Kuch Nahin Gaya Lekin

Shauq Ki Zindagi Guzari Hai

غزل
Comment
جون ایلیا
تعارفِ شاعر

جون ایلیا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 دسمبر 1931 — 8 نومبر 2002 📍

سید جون اصغر المعروف جون ایلیا (14 دسمبر 1931ء – 8 نومبر 2002ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، بے باک، غیر روایتی اور فلسفی شاعر، نثر نگار اور مفکر تھے۔ آپ امروہہ (بھارت) میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے