شاعری ہب / غزل / کیا تکلف کریں یہ کہنے میں جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

کیا تکلف کریں یہ کہنے میں جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

Kya Takalluf Karein Ye Kehney mein Jo bhi Khush Hai Hum Us se Jalte Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کیا تکلف کریں یہ کہنے میں

جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

تیرے کوچے میں ہم نہیں آتے

ہم تو اپنے ہی گھر میں جلتے ہیں

وہ جو روشن تھا اک دیے کی طرح

اس اندھیرے کا کیا بیاں کریں ہم

عشق میں جو تباہ ہوتے ہیں

وہ تو پل پل یونہی پگھلتے ہیں

Kya Takalluf Karein Yeh Kehne Mein

Jo Bhi Khush Hai Hum Us Se Jalte Hain

Tere Kooche Mein Hum Nahin Aate

Hum To Apne Hi Ghar Mein Jalte Hain

غزل
Comment
جون ایلیا
تعارفِ شاعر

جون ایلیا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 دسمبر 1931 — 8 نومبر 2002 📍

سید جون اصغر المعروف جون ایلیا (14 دسمبر 1931ء – 8 نومبر 2002ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، بے باک، غیر روایتی اور فلسفی شاعر، نثر نگار اور مفکر تھے۔ آپ امروہہ (بھارت) میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے