شاعری ہب / نظم / جزیہ

جزیہ

Jizya

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گڑیا سی یہ لڑکی

جس کی اجلی ہنسی سے

میرا آنگن دمک رہا ہے

کل جب سات سمندر پار چلی جائے گی

اور ساحلی شہر کے سرخ چھتوں والے گھر کے اندر

پورے چاند کی روشنی بن کر بکھرے گی

ہم سب اس کو یاد کریں گے

اور اپنے اشکوں کے سچے موتیوں سے

ساری عمر

اک ایسا سود اتارتے جائیں گے

جس کا اصل بھی ہم پر قرض نہیں تھا!

Guriya si yeh Ladki

Jis ki Ujli Hansi se

Mera aṅgan dmk Raha hai

Kal jab Saat samundar Paar Chali jae gi

Aur sahili Shehar ke surkh Chhaton oaley ghar ke andar

Poore Chaand ki Roshni ban kar bkhrey gi

Hum Sab Is ko Yaad karein Ge

Aur Apne ashkon ke Sache Motiyon se

Sari Umr

Ik aisa sod atartey jaayein Ge

Jis ka Asal bhi Hum par qarz nahin tha

نظم
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے