شاعری ہب / غزل / جب وہ محو خرام ہوتے ہیں

جب وہ محو خرام ہوتے ہیں

Jab Woh Mahw-e-Khiraam Hotay Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جب وہ محو خرام ہوتے ہیں

ملتفت خاص و عام ہوتے ہیں

صبح ہوتے ہیں ، شام ہوتے ہیں

تذکرے تیرے عام ہوتے ہیں

ئیں زمانے کو بھول جاتا ہوں

آپ ، جب ہمکلام ہوتے ہیں

میں اپنی جگہ ، ہم اپنی جگہ

اپنے اپنے مقام ہوتے ہیں

جو جھگڑتے ہیں عشق والوں سے

وہ اکڈ الخصام ہوتے ہیں

پستیوں پر بھی ہو نظر جن کی

وہی عالی مقام ہوتے ہیں

تو سلامت رہے ، ترے ہاتھوں

ہم غریبوں کے کام ہوتے ہیں

موت جس وقت آپہنچتی ہے

سارے قصے تمام ہوتے ہیں

بزم ساقی میں اور کیا واعظ !

رند ہوتے ہیں ، جام ہوتے ہیں

قُرب میں فاصلے بڑھے اتنے

دُور سے اب سلام ہوتے ہیں

مسجد عشق میں نصیر ! چلو

حُسن والے ، امام ہوتے ہیں

Jab woh mahw-e-khiraam hotay hain

Multafit khaas-o-aam hotay hain

Subh hotay hain, shaam hotay hain

Tazkiray tere aam hotay hain

Main zamanay ko bhool jata hoon

Aap, jab hum-kalaam hotay hain

Main apni jagah, hum apni jagah

Apne apne maqaam hotay hain

Jo jhagartay hain ishq walon se

Woh akadd-ul-khasaam hotay hain

Pastyon par bhi ho nazar jin ki

Wohi aali-maqaam hotay hain

Tu salamat rahay, tere haathon

Hum ghareebon ke kaam hotay hain

Maut jis waqt aa-pohnchti hai

Saaray qissay tamaam hotay hain

Bazm-e-saqi mein aur kya waaiz!

Rind hotay hain, jaam hotay hain

Qurb mein faasilay barhay itnay

Door se ab salaam hotay hain

Masjid-e-ishq mein Naseer! chalo

Husn walay, imaam hotay hain

غزل Urdu
Comment
پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ
تعارفِ شاعر

پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1949ء – 2009ء 📍 گولڑہ شریف، اسلام آباد، پاکستان

سید پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ (14 نومبر 1949ء – 13 فروری 2009ء، گولڑہ شریف، اسلام آباد) خانقاہِ عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین، عظیم صوفی بزرگ، محقق اور قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ حضرت...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔