شاعری ہب / غزل / یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گے

یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گے

Ionhi Afzash Ohsht ke Jo Saman Hon

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گے

دل کے سب زخم بھی ہم شکلِ گریباں ہوں گے

وجہِ مایوسیِ عاشق ہے تغافل ان کا

نہ کبھی قتل کریں گے، نہ پشیماں ہوں گے

دل سلامت ہے تو صدموں کی کمی کیا ہم کو

بے شک ان سے تو بہت جان کے خواہاں ہوں گے

Yunhi afzaish-e ohsht ke jo saman hoon Ge

Dil ke Sab zakhm bhi Hum Shakal-e griban hoon Ge

Wajah-e mayoosi-e Aashiq hai taġaful Un ka

Na kabhi Qatl karein ge na pshiman hoon Ge

Dil salamat hai to sdmon ki kami kiya Hum ko

Be shak Un se to bahut jaan ke khoahan hoon Ge

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے