شاعری ہب / غزل / بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے

بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے

Btain Hm Tmhare Aarz O Kakl ko

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے

اِسے ہم سانپ سمجھے اور اُسے من سانپ کا سمجھے

یہ کیا تشبیہِ بے ہودہ ہے، کیوں موذی سے نسبت دیں

ہُما عارض کو، اور کاکل کو ہم ظلِّ ہما سمجھے

غلط ہی ہو گئی تشبیہ، یہ تو ایک طائر ہے

اسے برگِ سمن اور اُس کو سنبل کو جٹا سمجھے

Btain Hum Tumhare aarz-o-kakl ko kiya samjhe

Ase Hum sãp samjhe aur ase man sãp ka samjhe

Yeh kiya tashbeeh-e be hodh he kyun Moozi se nsbt dein

Hma aarz ko aur kakl ko Hum zl hma samjhe

Ghalat hi ho gi tshbih yeh to Ek tar hai

Ise / Use brg-e smn aur as ko snbl ko jata samjhe

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے